1426 - السلسلةالصحیحة

Al-Silsila-tus-Sahiha - Hadees No: 1426

Hadith in Arabic

عَنْ عُبَادَة بن الصَّامِتِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَج ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَصْحَابُه مَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَال مَعَاذ بْن جَبَلٍ: يَا نَبِي الله! أَتَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَقَدَّم إِلَيْكَ عَلَى طَيِّبَة نَفْس؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاقْتَرَبَ مَعَاذٌ إِلَيْهِ فَسَارَا جَمِيَعًا، فَقَالَ مُعَاذ: بِأَبِي أَنَتَ يَا رَسُولَ الله! ، اسأل اللہ أَن يَجْعَلَ يَوْمَنَا قَبْلَ يَوْمِكَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ شَيْءٌ وَلَا نَرَى شَيْئًا إِن شَاء الله تَعَالَى فَأَيُّ الْأَعْمَالِ نَعْمَلُهَا بَعْدَكَ ؟ فَصَمَتَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللهِ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : نِعْمَ الشَّيْءُ الْجِهَادُ ، وَالَّذِي بِالنَّاس أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ. فَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ؟ قَالَ: نِعْم الشَّيْءُ الصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ فَذَكَر مُعَاذ كُلَّ خَيْر يَعْمَلُه ابنُ آدَم، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَعَادَ بِالنَّاس خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَمَاذَا بِأَبِي أَنَتَ وَأُمِّي عَادَ بِالنَّاسِ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَأَشَار رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى فِيْهِ قَالَ: الصَّمْتُ إِلَا مِنْ خَيْرٍ قَالَ: وَهَل نُؤَاخَذ بِمَا تَكَلَّمَتْ بِه أَلْسِنَتُنَا؟ قَالَ: فَضَرَب رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَخذِ مُعَاذ ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسُ عَلَى مَنَاخِرِهِم فِي جَهَنَّمْ إِلَامَا نَطَقَتْ بِهِ أَلْسِنَتُهُم؟! فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْم الْآخَر فَلْيَقُل خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ عَنْ شَرٍّ ، قُولُوْا خَيْرًا تَغْنَمُوا وَاسْكُتُوا عَنْ شَرٍّ تَسْلَمُوْا.

Hadith in Urdu

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك دن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنی سواری پر سوار باہر كی طرف نكلے۔آپ كے صحابہ آپ كے آگے آگے چل رہے تھے۔ معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے نبی كیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں كہ میں آپ كی خوشی سے آپ كے پاس آؤں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ٹھیك ہے۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ آپ كے قریب ہوئے اور دونوں اكھٹے چلنے لگے۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں اللہ سے دعا كرتا ہوں كہ اللہ تعالیٰ میری موت کا دن آپ کے یوم وفات سے پہلے کردے۔ اگر كوئی معاملہ (آپ کی رحلت کی طرف اشارہ ہے) ہو اور ان شاء اللہ ہم كوئی معاملہ نہیں دیكھیں گے۔ تو آپ كے بعد ہم كون سے عمل كریں؟رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌خاموش رہے پھر فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ ۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جہاد بہترین عمل ہے، اور جو چیز لوگوں کے پاس ہے اس سے بھی زیادہ بہترین ہے۔ (معاذ‌رضی اللہ عنہ نے پوچھا) روزہ اور صدقہ؟ آپ نے فرمایا: روزہ اور صدقہ بہترین عمل ہیں۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے نیك كام كا ذكر كیا جو ابن آدم كرتا ہے ۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لوگوں كے پاس اس سے بھی بہترین عمل ہے۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان وہ کون سا عمل ہے جو لوگوں كے پاس بہترین صورت میں موجود ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے منہ كی طرف اشارہ كیا فرمایا: بھلائی كے علاوہ ہر بات سے خاموشی۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: ہماری زبانیں جو الفاظ ادا كرتی ہیں كیا ان كی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے معاذ‌رضی اللہ عنہ كی ران پر ہاتھ مارا پھر فرمایا: اے معاذ تمہاری ماں تمہیں گم پائے! لوگوں كو جہنم میں منہ كے بل ان كی زبانوں كی كاٹ ہی توگرائے گی۔ جو شخص اللہ اور یوم آخر ت پر یقین ركھتا ہے وہ اچھی بات كہے یا بری بات كہنے سے خاموش رہے۔ اچھی بات كہو ،غنیمت حاصل كرو گے۔ بری بات سے خاموش رہو سلامت رہو گے۔( )

Hadith in English

.

Previous

No.1426 to 3704

Next
  • Book Name Al-Silsila-tus-Sahiha
  • Takhreej سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (412) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7882) .